ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں دو بھائی الیکٹرک شاک کے بعد چھت سے گر گئے، دونوں کی موت

بھٹکل میں دو بھائی الیکٹرک شاک کے بعد چھت سے گر گئے، دونوں کی موت

Wed, 25 Mar 2020 22:18:05    S.O. News Service

بھٹکل 25/مارچ (ایس او نیوز) یہاں کار اسٹریٹ پر واقع ایک مکان کی چھت سے دو لڑکے نیچے گر کر جاں بحق ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون

انظف منیار بڑے ہونہار، سلیقہ مند، شریف النفس اور بڑے ہی دلچسپ طالب علم تھے۔ نویں جماعت میں داخل تھے۔ اساتذہ اور ٹیچرس کے منظور نظر تھے۔ درجہ کے تمام ساتھیوں کے چہیتے اور ہر دلعزیز تھے۔ 
انظف کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ جب بھی کسی سے ملتے خندہ پیشانی سے ملتے۔ کسی کو تکلیف دینا، ستانا، چٹکی لینا، مذاق اڑانا آج کل عام ہے، مگر انظف اس طرح کی بے ہودہ چیزوں سے دور بلکہ متنفر تھے۔
پڑھنے کے بے انتہا شوقین تھے۔ ایک استاد نے بتایا کہ چند دنوں میں کئی کئی کتابیں پڑھ لی تھیں۔  لگتا تھا یہ لڑکا ایک دن ترقی کے مدارج طے کر کے صرف والدین ہی نہیں بلکہ پوری قوم کا نام روشن کرے گا۔ لیکن اس کا رزق، اس کی سانسیں اور اس کی عمر اللہ کے حکم سے یہیں تک لکھی تھی۔    موت ہر شاہ و گدا، مردو عورت،  بوڑھے ، بچے اور جوان کو نگل لیتی ہے۔ وہ ظالم کہاں دیکھتی ہے کہ یہ لڑکا مستقبل میں قوم کا نام روشن کرنے والا ہے۔ مگر !!!

موت سے کس کو دستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے

نونہال سینٹرل اسکول اپنے اس مایہ ناز طالب علم کو سلامی پیش کرتا ہے۔  ہم اسکول کے انتظامیہ، تمام اساتذہ، ٹیچرس اور طلباء طالبات دعا گو ہیں کہ اللہ ہمارے اس شاہین صفت طالب علم کو جنت الفردوس نصیب فرمائے۔ اس کے والدین اور اقارب کو صبر جمیل نصیب فرمائے۔۔۔ 

                نونہال سینٹرل اسکول بھٹکل

انتقال کرنے والوں کی شناخت  محمد فہد منیار (22) اور اس کا چھوٹا بھائی  محمد انظف منیار (13)کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

فہد کے بھائی فہیم منیار نے بتایا کہ دونوں بھائی  کھیلتے کھیلتے اچانک فرسٹ فلور پر واقع مکان کی چھت (ٹیریس) پر چلے گئے تھے، جہاں سے نیچے گر گئے، فہیم کے مطابق  دونوں کو الیکٹرک شاک بھی لگا تھا۔

سمجھا جارہا ہے کہ دونوں بھائی اوپر چھت پر پہنچ کر نیچے سنسان روڈ کو دیکھ رہے تھے جہاں پولس والے گاڑیوں کو روک رہے تھے، اس دوران اچانک فہد ٹیریس کے کنارے سے گرنے لگا تو اُس نے ٹیریس سے لگے الیکٹرک کھمبے یا کیبل کر پکڑ لیا، الیکٹرک شاک لگتے ہی وہ نیچے گرنے لگا۔ غالباً بھائی کو نیچے گرتا دیکھ کر انظف نے اپنے بھائی کو پکڑنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں اُسے بھی الیکٹرک شاک لگ گیا اور دونوں نیچے گرپڑے۔

بتایا گیا ہے کہ فہد کی بھٹکل سرکاری اسپتال لے جانے تک موت واقع ہوگئی، جبکہ انظف کو نازک حالت میں بھٹکل سے فوری طور پر اُڈپی اسپتال لے جایا گیا، جہاں پہنچنے کےبعد اُس نے بھی دم توڑ دیا۔ اللہ دونوں کی مغفرت فرمائے اور گھروالوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

بتایا گیا ہے کہ فہد کچھ سالوں سے وجے واڑہ میں ملازمت کرتا تھا، قریب دو ماہ قبل ہی وہ بھٹکل آیا تھا، واپس جانے والا تھا مگر کورونا کی ہوا چلنے کی وجہ سے نہیں جاسکا تھا۔ اس کے والد  قریب 30 سالوں سے  وجے واڑہ میں ملازمت کرتے ہیں۔ یہ لوگ کار اسٹریٹ میں واقع عمارت کے پہلے مالہ پر   کرائے کے فلیٹ میں  رہتے ہیں۔ محمد انظف کے تعلق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ نونہال سینٹرل اسکول میں نویں کلاس میں پڑھ رہا تھا۔

ایک ساتھ دو لڑکوں کی موت واقع ہونے پر  گھر والے سخت صدمے میں ہیں۔ اللہ گھر والوں کو صبر دے۔


Share: